" عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ. " بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نٓ وَ الۡقَلَمِ وَ مَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ
      
Listen Vital FM Radio                                                                                                                                                      صفحہ اول عالمی حالات صحت تعلیم ادب کالم ٹیکنالوجی سیاحت خواتین کامیاب نوجوان بچوں کا میگزین Al-Quran/القرآن

دنیا بھر میں تقریباً 52 کروڑ بچے مسلح تنازعات کے علاقوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

انسانیت کے لیے چونکا دینے والے انکشاف میں عالمی تنظیم " سیو دی چلڈرن" نے بتایا ہے کہ گذشتہ سال دنیا بھر میں تقریباً 52 کروڑ بچے مسلح تنازعات کے علاقوں میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔
نظیم کی برلن میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد سنہ2023ء کے مقابلے میں 4 کروڑ 70 لاکھ زیادہ ہے، جو کہ 2005ء سے اس نوعیت کے تجزیوں کے آغاز کے بعد اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کا ہر پانچواں بچہ کسی نہ کسی مسلح تنازع سے متاثر ہے۔
تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سال بچوں کے خلاف 41 ہزار 763 جرائم ریکارڈ کیے گئے، جو سنہ2023ء کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ بھی ایک افسوسناک عالمی ریکارڈ ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان جرائم میں سے نصف سے زائد صرف چار تنازعات والے خطوں میں ہوئے؛ جن میں سرفہرست مقبوضہ فلسطینی علاقے، جمہوریہ کانگو، نائجیریا اور صومالیہ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر گذشتہ سال دنیا بھر میں 61 مسلح تنازعات ریکارڈ کیے گئے۔
جرمنی میں تنظیم " سیو دی چلڈرن" کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فلورین ویسٹفال نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کے مطابق "دنیا میں بڑھتی ہوئی عسکری دوڑ کے درمیان فوری سیاسی اقدام کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ بچوں کا تحفظ عالمی سکیورٹی پالیسی کا بنیادی مرکز ہونا چاہیے"۔
انہوں نے اس بات کو شرمناک قرار دیا کہ کئی ممالک اسلحے پر بچوں کے تحفظ سے کہیں زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔
تنظیم نے بتایا کہ اس تحقیق میں ناروے کے اوسلو میں قائم انسٹیٹیوٹ برائے امن تحقیق (بريو) اور اقوام متحدہ کے اعدادوشمار سے مدد لی گئی۔ رپورٹ کے مطابق "تنازعہ زدہ علاقہ" اُس مقام کو کہا گیا ہے جو کسی جنگی واقعے سے کم از کم پچاس کلومیٹر کے دائرے میں واقع ہو۔


About us| Privacy Policy| Terms & Conditions| Disclaimer| Contact us                                ہمارے با رے میں | پرائیویسی پالیسی| شرائط و ضوابط| دستبرداری| رابطہ|

© 2024-2028 VOA Pakistan       |       Follow us: Facebook | Youtube | Twitter/ X | Instagram |

وزٹرز کی تعداد: لوڈ ہو رہا ہے...