دنیا اور برصغیر کا پہلا سینما گھر تاریخ کے آئینے میں

دنیا کا پہلا سینما گھر
امریکہ کی ایڈیسن کمپنی نے1891میں متحرک فلم دکھانے کے لیے بائسکوپ قسم کا ایک آلہ ایجاد کیا جو ایک وقت میں صرف ایک ہی شخص دیکھ سکتا تھا۔1895ئ میں فرانس میں لومئیر برادرز نے اپنی بنائی ہوئی ایک مشین سے ایک سے زائد افراد کو کی سکرین پر ایک مختصر متحرک فلم دکھائی لیکن فیچر فلموں کے لیے دنیا کا پہلا باقاعدہ سینما گھر 1905ئ میں امریکہ کے شہر پٹسبرگ میں نیکلوڈن کے نام سے وجود میں آیا تھا۔
برصغیر کا پہلا سینما گھر
برصغیر پاک و ہند میں پہلی بار 1895میں لومئیر بردرس کی مختصر فلمیں بمبئی کے ایک ہوٹل میں دکھائی گئی تھی
۔پہلا باقاعدہ سینما گھر 1907ئ میں "چیپلن سینما" کے نام سے کلکتہ میں قائم ہوا جو اس دور کے ایک بہت بڑے فلمی نام ، فلمساز اور تقسیم کار جے ایف مدن (جمشید فرامجی مدن) نے "الفنسٹون پکچر پیلس" کے نام سے بنایا تھا۔ یہ منروا سینما کے نام سے بھی معروف رہا لیکن 2013ئ میں حکومت بنگال نے اس تاریخی سینما کو مسمار کردیا تھا۔
موجودہ پاکستان کا پہلا باقاعدہ سینما گھر ، "عزیز تھیٹر" کے نام سے 1908ئ میں قائم ہوا جو 2014ئ میں بند کر دیا گیا تھا
تقسیم کے بعد نوزائیدہ مملکت پاکستان کے حصے میں فلم انڈسٹری کا ایک چھوٹا سا حصہ کراچی اور لاہور میں ہمارے حصے میں آیا اورغالباً پاکستان کے حصے میں جو سینما گھر آئے ان کی تعداد چند سو سے زائد نہ تھی، کراچی میں سینماوئں کی تعداد بیس تھی اور پھرستر کی دہائی تک یہ تعداد سو تک جا پہنچ، اسی میںکراچی کی مشہور بندر روڈ ( اب ایم اے جناح روڈ) پر واقع نشاط سنیما کا کراچی کے سنیما گھروں میں ایک منفرد مقام حاصل تھا۔ یہ 1948 سے قائم ہوا اور اس لحاظ سے یہ کراچی اور پاکستان کا سب سے پرانا سنیما گھر تھا ۔
پچیس دسمبر انیس سو سینتالیس کو محترمہ فاطمہ جناح نے نشاط سینما کا افتتاح کیا اور فلم ’’ ڈولی ’’ بھی دیکھی ( انیس سو باسٹھ میں محترمہ نے اداکار محمد علی کی پہلی فلم ’’ چراغ جلتا رہا ’’ کا پریمئر شو بھی ڈائریکٹر فضل کریم فضلی کے ہمراہ یہیں دیکھا )۔ نشاط سینما نہیں بہت کچھ تھا ۔اُس وقت یہ سنیما کراچی کے مشہور پارسی بزنس مین گوڈریج کانڈاوالا کی ملکیت تھا۔ اس حوالے سے یہ ایک ایسے وقت کا نشان بھی ہے جو آج کے دور سے اتنا ہی دور لگتا ہے جیسے کوئی اور ہی دنیا۔اس کی تعمیر کا سہرا کانڈاوالا صاحب کے سر ہے۔ ان کے پاس دو پلاٹ تھے، ان میں سے ایک پر ’’نشاط ‘‘ سنیما تعمیر ہوا جبکہ دوسرے پر ایک بلڈنگ ’’کانڈاوالا‘‘ کے نام سے ہی تعمیر کی گئی ،جو سنیما کے بغل میں آج بھی قائم ہے اور جس میں اس وقت ایک بینک قائم ہیں۔

پاکستان میں سینما کی تعداد کتنی تھی؟
پاکستانی فلموں کے انتہائی عروج کے دور یعنی 1970/80 کی دھائیوں میں ملک بھر میں عوامی تفریح کے لیے اندازاً آٹھ سے نو سو کے لگ بھگ سینما گھر موجود ہوتے تھے۔
پاکستان فلم میگزین کے سینما ڈیٹا بیس میں تادم تحریر ، 292 شہروں ، قصبوں یا مقامات وغیرہ پر 995 سینما گھروں کا غیر حتمی ریکارڈ موجود ہے جن میں سے 60 فیصد یا 620 سینما گھر صوبہ پنجاب میں اور ان میں سے ہر چھٹا سینما گھر ، صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہوتا تھا۔صوبہ سندھ کے 262 سینماؤں میں سے تقریباً آدھے سینما گھر صرف پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہوتے تھے۔ صوبہ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کا ہر چوتھا سینما بالترتیب پشاور اور کوئٹہ جیسے مرکزی شہروں میں ہوتا تھا۔
پاکستان کے چند بڑے شہروں کو "مین سرکٹ" کہا جاتا تھا جہاں سب سے زیادہ سینما گھر ہوتے تھے اور سب سے پہلے نئی فلمیں ریلیز ہوتی تھیں۔مرکزی شہروں میں کراچی میں 126 ، لاہور میں 104 ، ملتان میں 34 ، فیصل آباد میں 33 ، راولپنڈی/اسلام آباد میں 33 ، گوجرانوالہ میں 25 ، حیدرآباد میں 23 ، سیالکوٹ میں 18 ، پشاور میں 17 ، گجرات میں 14 ، سرگودھا میں 12 ، اوکاڑہ میں 11 ، ساہیوال میں 10 اور کوئٹہ میں 7 سینما گھروں کا ذکر ملتا ہے۔
مختلف شہروں میں سینماؤں کی تعداد کا تعلق آبادی سے کم اور فلم بینی کے ذوق سے زیادہ ہوتا تھا۔ مثلاً کوئٹہ کی آبادی دگنی تھی لیکن گجرات میں دگنے سینما گھر تھے جو آبادی میں سکھر اور لاڑکانہ سے بھی چھوٹا شہر ہوتا تھا۔ پاکستان اور خصوصاً پنجاب کے صنعتی شہروں کے محنت کش اور مزدور طبقہ کے لیے فلم سب سے بڑی تفریح ہوتی تھی۔ اس کے برعکس دوردراز کے پسماندہ ، قدامت پرست اور کم آبادی والے علاقوں میں فلم بینی کا رحجان کم ہوتا تھا۔
سینما گھروں کے کچھ مقبول نام
پاکستان کے 995 سینما گھر ، 486 مختلف ناموں سے مشہور تھے جن میں سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نام "محل" ہے جو 85 سینماؤں کے ناموں میں ملتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ "محل" نام کا صرف ایک ہی سینما تھا البتہ یہ نام "تاج محل" اور "شیش محل" وغیرہ جیسے ناموں کا لاحقہ ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر مقبول نامو ں میں
"ناز" کے بعد پاکستانی سینماؤں کے دیگر مقبول ترین ناموں میں "نشاط" 28 ، "شمع" 23 ، "ریکس" 19 ، "سنگیت" 17 ، "تاج محل" 14 ، "پرنس" 14 ، "سنے پیکس" 14 ، "فردوس" 13 ، " کیپری" 12 اور "شبنم" 11 شامل ہیں۔
فوجی سینما:۔
ان سولین سینماؤں کے علاوہ چھ درجن کے قریب فوجی سینماؤں کے معروف ناموں میں آرمی کے لیے "گیریژن" 17 جبکہ فضائیہ کے لیے "شاہین" 14 اور "پی اے ایف" کے 7 سینما تھے۔ نیوی کے بھی آدھ درجن سینماؤں کا ذکر ملتا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان سٹیل ملز اور سیمنٹ انڈسٹریز کے بھی اپنے اپنے سینما گھر ہوتے تھے۔